جوا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گاڑی یا ہل کا وہ حصہ جو اس میں جتے ہوئے بیلوں وغیرہ کی گردن پر رہتا ہے؛ نیز مجازاً۔ "اب کی جو تم کو کھیت جوتنے کو لے جائیں اور جوا تمہاری گردن میں پہنائیں تو فوراً گر پڑو۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٩ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'یگ + کن' سے ماخوذ اردو زبان میں 'جوا' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٨٤٦ء میں "کھیت کرم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گاڑی یا ہل کا وہ حصہ جو اس میں جتے ہوئے بیلوں وغیرہ کی گردن پر رہتا ہے؛ نیز مجازاً۔ "اب کی جو تم کو کھیت جوتنے کو لے جائیں اور جوا تمہاری گردن میں پہنائیں تو فوراً گر پڑو۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٩ )

اصل لفظ: یگ+کن
جنس: مذکر